اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی مجلس شورائے ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج منگل 7 مہر کو پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں اپنے خطاب سے قبل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں میں آٹھ سالہ دفاع مقدس، 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے عظیم شہداء، کمانڈروں اور مجاہدین، بالخصوص سکیورٹی کے دفاع میں شہید ہونے والے عزیز شہداء کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ہم ایسے ہفتے میں ہیں جو قربانی، مزاحمت اور خدمت کی علامتوں سے بھرپور ہے؛ آپریشن ثامن الائمہ کی فتح بخش سالگرہ اور آبادان کا محاصرہ توڑنے کے دن سے لے کر وطن کے جانثار سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان فداکار فائر فائٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے تک، جو ہمیشہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے صف اول میں کھڑے رہے ہیں۔
شہید سید حسن نصر اللہ صرف فوجی کمانڈر یا دینی فقیہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کے ماہر تھے
انہوں نے مزید کہا: ہم شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر ہیں۔ وہ صرف ایک فوجی کمانڈر یا دینی فقیہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کے ماہر تھے، جنہوں نے خطے میں طاقت کا توازن دنیا کے مظلوموں اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کے حق میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے حزب اللہ کو ایک مزاحمتی گروہ سے ایسی مزاحمتی قوت میں تبدیل کردیا جو باز رکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی اور جس نے خطے کے سکیورٹی کے معادلات کو ازسرنو متعین کردیا۔
مزاحمت ایک منظم ڈھانچہ بن چکی ہے جس نے دشمن کو ہر صورتِ حال میں ناکامی اور بے بسی سے دوچار کردیا ہے
ڈاکٹر قالیباف نے کہا: آج مزاحمت کا ڈھانچہ، اسی نظم و ضبط اور تزویراتی سوچ کے ساتھ، جناب شیخ نعیم قاسم کی قیادت میں اپنی راہ کو زندہ دلی اور قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دشمن کا خیال تھا کہ کمانڈروں کو ختم کرکے وہ لبنان میں مزاحمت کو روک سکتا ہے، لیکن گزشتہ دو برس کے تجربے اور واقعات نے ثابت کردیا کہ مزاحمت کسی ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ ایک ایسا منظم ڈھانچہ ہے جس نے دشمن کو ہر صورتِ حال میں ناکامی اور بے بسی سے دوچار کردیا ہے۔ دشمنوں اور دنیا کے تمام لوگوں نے دیکھا کہ مزاحمت کے شہید کمانڈروں کا پاک خون اس تحریک کو مزید زندہ اور طاقتور بنا رہا ہے۔
مجلس کے اسپیکر کا 48 گھنٹوں میں آبادان کا محاصرہ توڑنے کا ذکر
اسلامی مجلس شورائے ایران کے اسپیکر نے مزید کہا: ان دنوں آبادان کا محاصرہ توڑنے کی سالگرہ بھی ہے۔ اگر آبادان کا محاصرہ امام کبیر انقلاب رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق توڑا گیا تو یہ آپریشن ثامن الائمہ علیہ السلام میں کمانڈروں اور مجاہدین کی جدوجہد اور بے مثال قربانی کے ساتھ ایک درست آپریشنل منصوبے کی تیاری اور اس پر بہادری سے عمل درآمد کا نتیجہ تھا۔ ان دنوں بعثی دشمن نے اہواز اور ماہشہر کی سڑکیں کاٹ کر اور کارون دریا پر رابطہ پل تعمیر کرکے آبادان کو سخت محاصرے میں لے لیا تھا۔ آبادان کی آئل ریفائنری، جو ملک کے توانائی کے شعبے کا مرکز اور مغربی ایشیا کی سب سے بڑی ریفائنری تھی، توپ خانے کی براہ راست گولہ باری کے نتیجے میں بند ہوگئی، تیل کی ترسیل کی پائپ لائنیں منقطع ہوگئیں اور شہر کا پانی اور بجلی کا نظام تقریباً تباہ ہوگیا؛ صدام قحط اور عوام کو ضروری اشیا کی قلت کا بحران مسلط کرکے آبادان کے لوگوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا تھا، لیکن آبادان کے مزاحمت کار عوام کی استقامت و مضبوطی اور اسلامی مجاہدین کی لڑائی و شجاعت نے اس سازش کو ناکام بنا دیا اور ایک سالہ محاصرہ 48 گھنٹوں کے اندر توڑ دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا: اسی موقع پر میں ایران کی نوجوان نسل کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آج امریکہ کی جانب سے سمندری محاصرہ مسلط کرنے، فضائی راہداریوں کو بند کرنے اور ملک کی تجارتی گزرگاہوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی اقتصادی شعبے میں سنجیدہ منصوبہ بندی و انتظام اور 1360 کی طرز کے فوجی جوابات کے ذریعے ناکام ہوں گی۔
امریکی جان لیں کہ اس متمدن قوم کو خوف زدہ کرنے اور تباہی کی دھمکیاں دینے کا دور ختم ہوچکا ہے
ڈاکٹر قالیباف نے مزید کہا: جس قوم کی تاریخ میں ایسی شاندار اور گہری جڑیں موجود ہوں، اسے کبھی محاصرے اور دھمکی سے خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دشمن کا امریکی نظامِ محاسبہ اس بنیادی حقیقت کو نہیں سمجھتا تو وہ ایرانی قوم کی جانب سے مسلسل بھاری تھپڑ کھانے کے چکر میں پھنسا رہے گا۔ البتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کے غیر سنجیدہ مؤقف اور عظیم و تمدن ساز ایرانی قوم کے خلاف گستاخی نے ظاہر کردیا ہے کہ انہوں نے اب بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا، اور ایسی گستاخیوں کے مقابلے میں ہمارا جواب وہی واضح بات ہے جو پہلے بھی کہی جاچکی ہے: ’’تم گھومو، ہم بھی گھومیں گے!‘‘
امریکی جان لیں کہ اس متمدن قوم کو خوف زدہ کرنے اور تباہی کی دھمکیاں دینے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کو جان لینا چاہیے کہ بالغ نظر اور تاریخ ساز ایرانی قوم دھمکیوں، لفاظی یا فضائی و تجارتی محاصرے کے ذریعے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کا جواب سخت، پشیمان کن، درست اور فوری ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا: امریکی صدر نے حال ہی میں آبنائے ہرمز اور اس آبنائے سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے بارے میں لفاظی کی ہے، جو ان کے سابقہ دعووں کی تکرار ہے اور ان بے بنیاد مؤقف کی حقیقت سب کے سامنے واضح ہے۔ امریکیوں اور دیگر تمام ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے، وہاں کوئی بھی تیل فروخت نہیں کرسکے گا اور اگر ہماری سلامتی یقینی نہ بنائی گئی تو کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔
مجلس کے اسپیکر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈاکٹر پزشکیان کے مؤقف کی تعریف
ڈاکٹر قالیباف نے مزید کہا: میں اسی موقع پر محترم صدر ڈاکٹر پزشکیان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں واضح اور باوقار مؤقف کو سراہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ مسلمان ایرانی قوم کے نمائندے کی حیثیت سے ایک قدیم تہذیب اور انقلابی و سربلند قوم کی آواز تھے، جو دھمکی اور تسلط پسندی کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔ ایرانی قوم جنگ پسند نہیں ہے، لیکن اپنی سلامتی، عزت اور حقوق کے دفاع میں بھی کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرے گی؛ کوئی بھی دھمکی اس قوم کو پسپائی پر مجبور نہیں کرسکتی اور جنگی مجرموں اور نسل کشی کی زبان کو فروغ دینے والوں کا انجام تباہی اور ہمیشہ کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
رہبر معظم کا گزشتہ روز کا پیغام ایک دفاعی اور تہذیبی نظریے کی واضح تشکیل تھا
انہوں نے کہا: لیکن رہبر معظم انقلاب کا گزشتہ روز کا پیغام ایک دفاعی اور تہذیبی نظریے کی واضح تشکیل تھا۔ آج کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلی جنگ کے دوران ہی اپنی دفاعی بازدارندگی کا ڈھانچہ تشکیل دیا اور حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے دوران ثابت کردیا کہ خطرے کا توازن تبدیل ہوچکا ہے اور خوف و دباؤ مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ اہم مواقع پر وہ قومی سلامتی کے لیے ڈٹ جاتی ہے۔
رہبر انقلاب کے بصیرت افروز پیغام نے ہمارے لیے حکام کی حیثیت سے ایک واضح عملی راستہ بھی متعین کیا ہے؛ بیرون ملک میدان میں اقتدار اور طاقت کی پشت پناہی، اندرون ملک عوام کا اطمینان اور معاشی تحفظ ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم طاقت کے توازن کے میدان میں طاقت کا ڈھانچہ قائم کریں لیکن عوام کے روزمرہ مسائل اور معیشت کے حل میں تاخیر کریں۔ ہم بحیثیت عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں اور حکومتی عہدیداروں کی حیثیت سے سب اس بات کے پابند ہیں کہ اس سمت کو مؤثر اور قابلِ محسوس فیصلوں میں تبدیل کریں تاکہ عظیم ایرانی عوام اور رہبر معظم انقلاب کی جائز توقعات پوری ہوسکیں۔
ہماری سب سے کم اور بنیادی ذمہ داری عوام کے معاشی حالات کا مکمل اور غیر مشروط تحفظ ہے
ڈاکٹر قالیباف نے مزید کہا: ایسے حالات میں ہماری سب سے کم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم عوام کے معاشی حالات کا مکمل اور غیر مشروط تحفظ کریں۔ ہم ساتویں ترقیاتی پروگرام کے قانون کی دفعات اور بجٹ کی ذمہ داریوں میں واضح حمایتی طریقہ کار کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔ آج مزدوروں، ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی قوت خرید کی بحالی اور اس سے بڑھ کر الیکٹرانک راشن کارڈ کے ڈھانچے کی اصلاح، اس کے وسائل کو مضبوط بنانا اور اس کے مالی حجم میں اضافہ ایک فوری ترجیح ہے تاکہ خاندان کم سے کم وقت میں اپنی خوراک اور بنیادی ضروریات کی اشیا حاصل کرنے کے حوالے سے عملی اور حقیقی اطمینان حاصل کرسکیں۔
اسی سلسلے میں سرکاری کمپنیوں اور بینکوں، پنشن فنڈز اور غیر سرکاری عوامی اداروں کے ماتحت کمپنیوں کی انتظامی ناکارکردگی کو دور کرنے کے لیے ان اداروں کی قدر افزائی کے سلسلے میں نئی ترتیب دینا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے ساتویں ترقیاتی پروگرام کے قانون سے متعلق دفعات پر عمل درآمد کے نقطۂ نظر اور محترم حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے ان اصلاحات کے عملی لائحۂ عمل کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس پر کام جاری ہے۔
اسلامی مجلس شورائے ایران کے اسپیکر نے مزید کہا: آخر میں یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ یہ ملک مادی اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے، اسے فیصلہ کن مواقع پر جرات مندانہ فیصلوں، بروقت اقدامات اور قومی یکجہتی و اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خدا کے فضل سے نائب امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ہدایات کی روشنی میں ہم اس تاریخی مرحلے سے بھی سربلندی اور کامیابی کے ساتھ گزر جائیں۔
ان شاء اللہ، ’’اور ایک دوسری چیز جسے تم پسند کرتے ہو: اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب فتح، اور مؤمنوں کو خوشخبری سنا دو۔‘‘
آپ کا تبصرہ